22 مئی 2026 - 07:50
حصۂ دوئم | ہمیشہ سے زیادہ طاقتور ایران، دشمن کے خلاف نئے محاذ کھولنے کے لئے تیار

امریکہ کے دباؤ اور خطرات کے باوجود، ایران نے خطے میں اپنی اسٹراٹیجک پوزیشن کو مستحکم کر لیا ہے اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے ذریعے عالمی توانائی کی سلامتی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، اور دشمن کی غلطی اس پر آبنائے باب المندب کا کنٹرول بھی اس میں شامل کر دے گی۔ / امریکہ حملہ کرے گا، تو ایران باب المندب بند کرے گا، نیویارک ٹائمز / ایران؛ عالمی نظام میں استحکام یا بحران کا کلیدی ستون / تہران کے پاس عالمی توانائی کے اہم ترین گذرگاہ اور کھاد اور ہیلیم کی مرکزی شاہراہ پر کنٹرول ہے، فارن پالیسی / 42 امریکی جنگی طیاروں کی تباہی  / امریکہ میں ایندھن کی قیمتیں ناقابل برداشت / ایران کو پسپائی پر مجبور کرنا، ایک وہم ہے، ڈاکٹر پزشکیان / دشمن کو دوبارہ جارحیت پر پشیمان کریں گے، ڈاکٹر قالیباف / دشمنوں سے غلطی سرزد ہوجائے تو اس کے ہاتھ کاٹ کر رکھ دیں گے، میجرجنرل عبداللٰہی / جارحیت دہرائی گئی تو ایران کا ردعمل علاقائی حدود سے آگے ہوگا، سپاہ پاسداران / فوج دشمن کی ہر قسم کی مہم جوئی سے نمٹنے کے لئے تیار ہے، میجرجنرل امیر حاتمی / اس جنگ نے تیسری اسلامی جمہوریہ کو شکل دینے میں مدد دی ہے، اسرائیلی تجزیہ کار

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛

حصۂ دوئم:

جغرافیائی سیاسی امور کے فرانسیسی تجزیہ کار اولیور کیمپف (Olivier Kempf) نے بھی خبردار کیا ہے کہ 'آبنائے ہرمز کو طاقت کے استعمال سے نہیں کھولا جا سکتا؛ جبکہ سب نے حکومت کی تبدیلی، نظام کا تختہ الٹنے اور اس جیسی باتوں کا وہم ترک کر دیا ہے'۔ / دشمن کی اسٹراٹیجک غلطی نے اسلامی جمہوریہ ایران کو مضبوط کر لیا ہے اور وہ ساختی طور پر مضبوط ہو کر دباؤ کے سامنے مزاحمت کر رہا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران اب پختہ عزم اور ٹھوس طاقت کے ساتھ، دشمن کی کسی بھی حماقت کا سخت جواب دینے کے لئے تیار ہے۔"

ایران؛ عالمی نظام میں استحکام یا بحران کا کلیدی ستون

ایران کا آبنائے ہرمز پر کنٹرول ایک اسٹراٹیجک کامیابی اور ایک تزویراتی ترپ کا پتہ ہے جس نے ملک کو توانائی اور عالمی رسد کی اہم زنجیروں میں ناقابلِ تبدیل طاقت بنا دیا ہے۔ یہ کنٹرول ایران کو بین الاقوامی کھلاڑیوں اور عالمی منڈیوں پر بے مثال دباؤ کا اہم ذریعہ استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے، اس طرح کہ دنیا کی بڑی سے بڑی طاقتیں بھی علاقائی حقائق کو قبول کرنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔ اس آبراہ سے عبور کا مطلب ہے توانائی کی منڈی اور جدید ٹیکنالوجیز میں کھیل کے اصولوں کی نئی تعریف پیش کرنے کی صلاحیت، جسے کوئی بھی ملک آسانی سے نظر انداز نہیں کر سکتا۔

یہ صورت حال ایران کو عالمی نظام میں "استحکام" یا "بحران" کا کلیدی ستون بنا دیتی ہے، اور اس کا اثر و رسوخ محدود کرنے کی کوئی بھی کوشش بھاری قیمت ادا کرنے اور طویل مدتی نتائج بھگتنے کا سبب ہوگی۔ اسلامی ایران اب عالمی اسٹراٹیجک مساوات میں ایک کلیدی اور فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے جس نے اہم وسائل اور راستوں کو کنٹرول میں لاکر اپنی عالمی تسدید (Deterrence) اور اثر و رسوخ کو شدت سے، بڑھا دیا ہے۔

تہران کے پاس عالمی توانائی کے اہم ترین گذرگاہ اور کھاد اور ہیلیم کی مرکزی شاہراہ پر کنٹرول ہے، فارن پالیسی

فارن پالیسی میگزین اسی تناظر میں لکھتا ہے: 'ایران کے نئے رہبر نے وہ حاصل کر لیا ہے جو ایران نے امریکہ کے ساتھ پچھلی پانچ دہائیوں کے تناؤ کے کسی بھی دور میں کبھی حاصل نہیں کیا تھا۔ تہران عملی طور ـ عالمی توانائی کی اہم ترین گذرگاہ اور کھاد اور ہیلیم کی مرکزی شاہراہ اور سیمی کنڈکٹرز کی تیاری میں ایک اہم جزو ـ "آبنائے ہرمز" پر کنٹرول رکھتا ہے'۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تالیف و ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha